لاہور کی دُھند اور کینڈی کرش

ایک وقت تھا، جب دودھ کے علاوہ دُھند بھی خالص ہوا کرتی تھی۔

لال مٹی کے کونڈوں میں ملنے والا دہی، تہہ در تہہ ملائی والا ہوتا تھا۔

برائلر چکن کے لیگ پیس، لڑاکا مرغوں کے لیگ پیسوں کی طرح ایکسٹرا لارج نہیں ہوتے تھے۔

سبزی خریدنے پر ہری مرچیں اور دھنیا چونگے میں ملاکرتا تھا اور بچ جانے والی اٹھنیوں سے ویڈیو گیمز کے ٹوکن خریدا کرتے تھے۔

نان لینے پر چھولوں والا، پتیلے کا چمچہ مفت ہی نان پر لبیڑ (لگا) دیتا تھا۔

چھوٹا گوشت کلوؤں میں خریدا کرتے تھے۔

مگر اب۔۔۔

نا وہ لاہور رہا اور نا لاہور کی وہ سفید اُجلی اُجلی دُھند۔

چکن کی طلب میں اتنا اضافہ ہوچکا ہے کہ چکن کا کاروبار کرنے والوں نے گجرانوالہ سے چکن درآمدکرنا شروع کردیا، جوکہ دیکھنے میں گجرانوالہ کے پہلوانوں کی طرح ہٹا کٹا مگر حقیقت میں پھوکا ہوتا ہے۔

نان لگانے والے نان بائیوں نے چمچہ لبیڑنے سے بچنے کے لیے بار بی کیو لگانا شروع کردیا، جس کے ساتھ نان کی بجائے دھنیے یا پودینے والی لسّی (چٹنی) مفت دی جاتی ہے۔

چھوٹا گوشت بیچنے والوں نے گوشت کی حفاظت کے لیے سیکیورٹی گارڈ رکھنا شروع کردیئے اور گوشت کو سونے کے زیورات کی طرح شیشے والی دکانوں میں بیچنا شروع کردیا۔

سبزی بیچنے والے مفت کی ہری مرچیں یا دھنیا مانگنے پر کہتے ہیں، ‘نوّاں آیا اے سونیا’۔

اور تو اور اب لاہور کی دُھند بھی خالص نہیں رہی۔ اس میں بھی دھویں، گردوغبار اور گیسوں کی آمیزش ہوچکی ہے۔ اس کے علاوہ ہندوستانی سازش کی وجہ سے روح کو سکون اور راحت پہنچانی والی دُھند اب آنکھوں میں چُبھن اور سانس لینے میں دشواری کا سبب بنتی ہے۔

پہلے پہل جون، جولائی اور اگست کی گرمیوں اور ستمبر اور اکتوبر کے معتدل موسموں کے بعد نومبر اور دسمبر کا انتظار دُھند کی آمد کے لیے ہوتا تھا۔ جب ہلکی پھلکی سردی مجھ جیسے سنگل پسلی جوشیلے اور بھڑکیلے نوجوان (اُس وقت کے) کو آدھی بازؤوں والی ٹی شرٹس پہن کر شوخیاں مارنے پر مجبور کرتی تھی۔ پھر جب رات دیر تک محلے کے دوستوں کے ساتھ کھڑے رہنے پر ہوا لگتی تھی تو امی کے ہاتھ سے دوائی کے ساتھ ساتھ تندوتیز طعنے بھی گھر کے باہر موجود دھند کی یاد دلاتےتھے۔

کیا وقت تھا وہ بھی۔ جب اُبلے انڈے بیچنے والے کی آواز شدید دھند کے باوجود بھی دور سے سنائی دے جاتی تھی۔ اُبلے انڈے بیچنے والا ولائتی اور دیسی انڈوں کو ٹوکری میں گرم رکھنے کے لیے 2 مختلف تھیلیوں میں چھپائے رکھتا تھا اور کالے نمک کی پُڑیاں ٹوکری کے ہینڈل سے لٹکی پلاسٹک کی تھیلی میں رکھی ہوتی تھیں۔

ایسا کمال وقت تھا کہ اُبلے انڈے بیچنے والا دو انڈے خریدنے پر وزیر خزانہ اسحاق ڈار کی طرح ریلیف پیکیج بھی دیا کرتا تھا۔ وہ علیحدہ بات ہے کہ اس زمانے میں بھی (اسحاق ڈار کے نقشے قدم پر چلتے ہوئے) اُبلے انڈے بیچنے والے ولائتی انڈوں کو چائے کے قہوے میں اُبال کر براؤن کرلیتے تھے، تاکہ ولائتی انڈوں کو دیسی انڈے بنا کر بیچا جاسکے۔

ایسا وقت تھا کہ سب دوستوں کی اوقات گھر کے سودوں میں سے بچ جانے والے پیسوں سے صرف مونگ پھلی خریدنے کی اجازت دیتی تھی، جنہیں خریدتے وقت دوسرے خشک میوہ جات کا ریٹ پوچھنے کے بہانے چند دانے اُچک لیا کرتے تھے۔ خشک میوہ جات بیچنے والے ریڑھی والے کو بھرپور اصرار کے ساتھ کہا جاتا تھا کہ جلتے کوئلوں والی مٹی کی ہانڈی کے نیچے سے مونگ پھلی دے۔ چلغوزوں کا ریٹ اُس زمانے میں بھی اتنا تھا کہ ریڑھی والا چلغوزوں کا ریٹ پوچھنے پر کہا کرتا تھا، ‘چلغوزے لینے ہوں، تو ابو کے ساتھ آنا’۔

اب تو لگتا ہے کہ مونگ پھلی بھی وہ نہیں رہی، جس کے کیڑہ لگے یا جل جانے والے دانے بھی ہم بِنا دیکھے کھا جایا کرتے تھے۔ مونگ پھلی چھیلنے کی اسپیڈ اتنی تیز ہوتی تھی کہ کہیں دوسرے دوست زیادہ نا کھا جائیں۔ جلدی جلدی کھانے کے چکر میں ایک ہاتھ سے چھیلی اور دوسرے ہاتھ سے ڈائریکٹ منہ میں۔

خالص دُھند کا ایک فائدہ اور تھا کہ دھند سے فائدہ اٹھاتے ہوئے ہم دوست چھپن چھپائی (لُکن مٹی) بھی کھیلا کرتے تھے۔

سفید دھند کی وجہ سے باری دینے والے کی خوب درگت لگتی تھی اور چُھپنے والے اپنی امی کی چادر سر تک اوڑھے باری دینے والے کے قریب انجان کی ایکٹنگ کرتے ہوئے جاتے اور ٹھاپ لگا کر پھر سے باری دینے پر مجبور کردیتے۔

کیا ہی کہنے تھے خالص دھند کے، جب گولڈ لیف کاسگریٹ خرید کر بغیر سلگائے کَش لگاتے ہوئے منہ سے دھواں نکالا جاتا تھا اور گزرنے والے محلے دار، گھروں پر جاکر شکایت لگاتے کہ دیکھو ماں جی، تواڈا منڈا سگریٹ پیندا  اے تے توانوں پتہ وی نئی (ماں جی، آپ کا بیٹا سگریٹ پیتا ہے اور آپ کو پتہ ہی نہیں)۔

اُس زمانے کی خالص دُھند کے تھپیڑے، مری کے بادلوں کی طرح اُڑتے تھے اور گھروں کی کھڑکیاں کُھلنے پر بِن بلائے مہمانوں کی طرح کمروں میں گُھس جاتے تھے۔ پھر چھینکیں آنے پر امّی کی جھاڑیں پڑتیں اور پھر جھپٹ سے کھڑی یا دروازہ بند کردیا جاتا تھا، مگر بیمار کو ایک بار پھر سے تازہ دُھند کا جھونکا مل جاتا تھا۔

آج کل کی ملاوٹ والی دھند کا اُس خالص دُھند سے کیا موازنہ! جب آتش بھی جوان تھا اور دُھند بھی خالص تھی۔

اب دھند ہو تو فکر ہونے لگتی ہے کہ دھند کی وجہ سے بچے بیمار نا ہوجائیں۔ اسکول اوقات میں شدید دھند کی وجہ سے بچوں کو خود اسکول چھوڑنے نا جانا پڑے، صبح دھند کی وجہ سے آفس سے لیٹ نا ہوجائیں، وغیرہ وغیرہ۔

جب دھند خالص تھی تو گاڑی نہیں تھی۔ اب جب دھند (آلودہ ہی سہی) بھی ہے اور گاڑی بھی تو دفتر میں اتنا وقت ہوجاتا ہے کہ دوستوں کے ساتھ مٹرگشت کرنے کے بجائے ٹریفک میں پھنسنے کا زیادہ چانس ہوتا ہے، جس میں ایک بار پھنس گئے تو گاڑی میں چپ چاپ بیٹھ کر موبائل پر بس ‘کینڈی کرش’ کھیلنا ہی رہ جاتا ہے، وہ بھی اکیلے۔


اپنی راہےکااظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.