انڈس ڈیلٹا کا بچاؤ ممکن مگر کیسے

ماحولیاتی تبدیلیوں نے جہاں پوری دنیا میں طوفانوں، زلزلوں،سردی اور گرمی میں خطرناک حد تک اضافہ کیا، وہیں سمندر کی سطح میں مسسلسل اضافے سے پاکستان کا قیمتی اثاثہ انڈس ڈیلٹا بھی بری طرح متاثر ہورہا ہے۔ کیٹی بندر سے سمندر پار ایک گھنٹے کی مسافت پر واقع انڈس ڈیلٹا کے ہجامرو کریک کے جزیرے کی بستی  تباہ حالی کی وجہ بھی یہ ہی  ہے، جیسے سمندر کی بلند ہوتی سطح کے باعث ہروقت ڈوبنے کا خطرہ لاحق ہے اور یہ ہی نہیں انڈس ڈیلٹا کے کریکس کے13جزیروں کو سمندری پانی نے برباد کر دیا ہے۔ کبھی یہ بستی بھی  بہت ہری بھری ہوتی تھی، یہاں کاشت کاری ہوتی تھی، لوگ چاول اور سبزیاں اگاتے تھے، لیکن اب جگہ جگہ گندگی کا ڈھیر، ٹوٹی پھوٹی کمزور جھونپڑیاں ذرا سی تیز ہوایا طوفان کے مقابلےکے قابل نہیں، چہرے پر مایوسی اور مصنوعی مسکراہٹ لئے مٹی اور جگہ جگہ کھڑے سمندری پانی میں ننگے پائوں کھیلتے ہوئے بچے، مستقبل کی فکر سے آزاد اور حال سے بے خبر ،اپنی دنیا میں مگن ،ہر طرف راج تھا تو صرف ویرانی کا۔ ’’ کچھ عرصہ قبل تک سمندر یہاں سے110کلو میٹرکے فاصلے پر تھا، بستی جو آج ویران نظر آرہی ہے یہاں ہزاروں ماہی گیر آباد تھے لیکن اب صرف400سے500گھر باقی بچے ہیں دیگر لوگ حالات سے تنگ آکر کیٹی بندر یا کراچی ہجرت کرگئے۔

وہاں کی زمین پر موجود نمکیات اور کٹائو کے نشان اس بات کا واضح ثبوت ہیں کے سمندر کی بڑھتی ہوئی سطح کے باعث انڈس ڈیلٹا کا ہجامرو کریک  اپنے خاتمے کی جانب گامزن ہے، انڈیس ڈیلٹا جس کا شمارناصرف تیمرکے سب سے بڑے جنگلات کا ذخیرہ رکھنے والے ڈیلٹا میں ہوتا ہے بلکہ یہ دنیا کا ساتواں بڑا ڈیلٹا بھی ہےلیکن یہاں کی حالت زار دیکھنے کے بعد کیف افسوس سے کہنا پڑ تاہے کہ اگر اسے بچانے کے لئے کوئی اقدامات نہ کئے گئے تو پاکستان اتنے بڑے قدرتی اثاثے سے محروم ہو جائے گا۔ یہاں سیوریج کا کوئی انتظام نہیں، کوئی اسپتال نہ تعلیمی ادارہ موجود ہے، یہاں کے لوگوں کا واحد پیشہ مالی گیری ہے اور سمندر کی سطح بلند ہونے سے یہاں مچھلی ناپید ہو چکی ہے جس کے باعث  لوگ اکثر فاقوں پر مجبور ہوتے ہیں یہی وجہ ہے کہ یہاں سے لوگوں کی ایک بڑی تعداد نقل مکانی کر چکی ہے، یہاں کی سب سے مشہور اور وافر مقدار میں پائے جانے والی مچھلی ’’پلہ‘‘ بھی ناپید ہو چکی ہے۔جبکہ پوری آبادی میں کتوں اور بطخوں کی بھرمار بھی ہے۔

سطح سمندر کا اتنی تیزی سے آگے بڑھنا اور ڈیلٹا کی زمین کو نگلتے جانا انتہائی خوف اور تشویش ناک بات ہے، انڈس ڈیلٹا کو بچانے کے لئے حکومت کو جلد از جلد اقدامات کرنے چاہئے۔ کیونکہ سمندر مسلسل آگے بڑھ رہا ہے جس کی ایک بڑی وجہ تیمر کے جنگلات کی کٹائی ہے،انڈس ڈیلٹا کے علاقے میں4لاکھ ایکڑ تیمر کے جنگلات پائے جاتے تھے لیکن اب شاذ و نادر ہی نظر آتے ہیں جو لمحہ فکریہ ہے اگر انڈس ڈیلٹا کو بچانا ہے تو تیمر کے جنگلات کو وسیع پیمانے پر پھیلانا ہوگا تاکہ وہ سمندر کی بڑھتی ہوئی سطح کو روکنے میں مددگار ثابت ہوں۔ انڈس ڈیلٹا اس وقت اپنی تاریخی کے سب سے خطرنال اور نازک وقت سے گزر رہا ہے،جس کی وجہ سطح سمندر کا تیزی سے بلند ہونا ہے اور اب تک کئی کریکس میں سمندر کا پانی باقاعدہ اپنے ڈیرے جما چکا ہے۔

ہجامرہ بھی ان بستیوں میں سے ایک ایسی بستی ہے جو سمندری پانی سے بری طرح متاثر ہے،یہ بستی کبھی بہت خوش حال ہوا کر تی تھی اور ہزازروں گھروں پر مشتمل تھی لیکن بد قستی سے گزشتہ 10 برسوں میں یہ بستی بستی نہ رہی بلکہ ایک ویران جگہ میں منتقل ہوگئی۔ ہجامرہ ہی نہیں انڈس ڈیلٹا میں واقع بہت سی بستیاں سمندرکی سطح میں اضافے کے باعث صفحہ ہستی سے مٹ چکی ہیں اور اب سمندر اس تیزرفتاری سے آگے بڑھ رہا ہے کہ بہر جلد ہجامڑو جیسی کئی بستیوں کو نگل جائے گا۔


اپنی راہےکااظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.