جدید دورمیں جدید چیزوں کے ہمارے بچوں پر برے اثرات مرتب

پاکستان کوبنے ستربرس ہوچکے ہیں۔ کبھی کبھی خیال آتاہےکہ زمانہ کتنا بدل گیا اور دورجدید سے جدید تر ہوچلاہے۔ اس دورکی بھیٹرچال ہمیشہ کچھ نیاکرنےپرمجبورکرتی ہے۔تیس کے پیٹے میں موجود افراد جوانی سے نوجوانی کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ ایک پینتیس چھتیس سال کےشخص نے زمانے کو بخوبی تبدیل ہوتے دیکھا۔ سن اسی کی دہائی میں صرف ایک ٹی وی چینل ہوتاتھا۔اس پر پی ٹی وی کی نشریات بچوں اور بڑوں، سب کی پسندیدہ تھی۔ اس ہی دور میں وی سی آر کا بول بالا شروع ہوا۔ ٹی وی تو موجود ہےمگر چینلز لاتعداد ہوگئے ہیں۔ وی سی آر قدیم ہوچکا ہے اور بات سی ڈی اور ڈی وی ڈی سے بھی آگے نکل رہی ہے۔

انٹرنیٹ کےبارےمیں کبھی ہم نے بچپن میں سوچابھی نہ ہوگا۔ کسی کےگمان میں بھی نہیں ہوگا کہ گھر بیٹھے پوری دنیا انگلیوں کےپوروں میں سمٹ آئے گی۔ ایک جنبش سے دنیاکے کسی بھی کونےکی خبر ملنےکاتصوربھی محال تھا۔ آج ایسا سب کچھ ممکن ہے۔ ٹیلی فون بھی تار کے دور سے آگےنکلتے ہوئے جیبوں میں آگئے ہیں۔ قسمت کی ستم فریقی یہ کہ فون رکھنابھی سیکورٹی رسک بن چکاہے۔اگرچہ موبائل فون نوے کےآخری برسوں میں آنا شروع ہوگئے تھےمگر بیس برس پہلے بھی اگر کوئی آپ سے یہ کہہ دیتا کہ باہر جاتےہوئے فون کاخیال رکھنا،کہیں کوئی چوری نہ کرلےتویہ یقینا عجیب لگتا مگر اب فون پر کھلے عام سڑک پربات کرناخطرے سے خالی نہیں۔

ہلے لڑائی جھگڑوں میں بات تکرار تک محدود رہتی تھی۔ پھر لاتوں مکوں کا دور آیا۔تھوڑاآگے بڑھیں تو چھری چاقو چلنےلگے اور پھر دشمن کوگولی سے ماردینا دہشت کی علامت تھا۔ حضرت انسان نفرت میں اتنا آگے نکل گیا کہ اپنے جیسے انسان کو قتل کرنےکےلیے بم اور خود کش حملہ آورتک کاسہارا لینے لگا۔ جھگڑوں ،اختلاقات اور مختلف رائے رکھنے والوں سے تصادم کے طریقے ہی بدل گئے۔عہدوپیماں کےلیے خط و کتابت بظاہر ہردور میں رہی۔ ہاتھ سے خط لکھنا کیا کم ہوا، اس کی جگہ پہلے تو کمپیوٹر کے چیٹنگ رومزنے لی۔ اس کے بعد رہی سہی کسر موبائل فون پر ہونےوالے دوستی نے نکال دی۔ پیار اور عشق بے دھڑک ہوگئے اور شرم و حیا معاشرے سے رخصت ہوئی۔

پچیس تیس برس پہلے،اس وقت کے پانچ دس سال کے بچوں کی عادات بھی مختلف تھیں۔ انھیں اگر کسی بات سے منع کیاجاتاتووہ لازمی مان لیتے۔ آج کابچہ دو ہاتھ آگے نظر آتاہے۔ والدین انھیں موبائل فون پر فلم، کارٹونز یا گیمز لگاکرسمجھتےہیں کہ ان کی ذمہ داری پوری ہوگئی مگر دراصل یہ تو اصل ذمہ داری شروع ہوتی ہے۔ بچوں کوپتہ نہیں چلتا اورجانے انجانےمیں وہ کچھ دیکھ لیتے ہیں جو ان کےمعصوم ذہن پرنقش ہوجاتاہے۔ بچوں کی ضداورمزاج میں جارحانہ پن آجکل عروج پرنظرآتی ہے۔ جدید دورکےوالدین مستقبل کی فکرکئےبغیربچوں کووہ کچھ دے دیتے ہیں جو ان کیلئے آنے والے کل میں نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔

فیشن کےانداز بھی زمانہ گذشتہ سے تبدیل ہوچکےہیں۔سرخی پاؤڈرسے بات پلاسٹک سرجری اور ہیر ٹرانسپلاٹ تک جاپہنچی ہے۔خوبصورت اور خوبرو لگنےکےلیے انسان کےجتن پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ گئےہیں۔ ملبوسات میں کپڑاکم اور جسم زیادہ جھلکتادکھائی دیتاہے۔عریانیت اورفحاشی کوفیشن کانام دےکرصنف نازک کوشوپیس بنادیاگیاہے۔خوبصورتی کےپیمانےبھی اداؤں اور نازنخروں تک محدودہوگئےہیں۔

سیانےکہنےلگےہیں کہ آنے والا دورمزید فاسٹ فارورڈ ہوگا۔ خداترسی اور انسانیت کم سے کم ہوجائےگی۔ عدم برداشت اوربردباری ڈھونڈنےسے نہیں ملےگی۔ رواداری اور بھائی چارےکوتلاش کیاجائےگا۔ اپنائیت اورخلوص کےلیےتاریخ کوکریدناپڑےگا۔ایسے دورکےلئےاپنی اصلاح کرکےاوراپنی جڑوں کومضبوط بناکربلاشبہ ہم معاشرے کی بھیٹر چال میں گم ہونےسے بچ سکتےہیں۔ ہمیں اپنی پہچان کوتبدیل ہونےسے بچاناہوگااوراس بات کااحساس کرناہوگاکہ ہمارے بزرگوں یابڑوں کانام اور عزت ہم سے ہے اورسمجھ داری اور وضع داری ہی ہمیں ایسے


اپنی راہےکااظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.