Latest news

گرمی آ ئے اور بجلی نہ جائے, کیا یہ ممکن ہے ؟

“وزیر اعظم  کی باتوں میں آ کر یوپی ایس بیچ بیٹھا ھوں۔ اب کیا کروں ؟” کل مجھے ایک دوست نے گلی میں روک کر پوچھا۔

میں نے کہا” کیا واقعی آپکو اس خوشخبری پہ یقین آگیا تھا؟ ”

ایک ٹھنڈی آہ بھرکے کہنے لگا” پاکستان کی بجلی اور پاکستانی قوم کا ساس بہو والا رشتہ ہے جس میں خوشی کم ہی ملتی ہے“
پھر یکدم زور زور سے ہنسنے لگا۔ مجھے لگا کہ غصے اور غم کے مکسچر نے شاید اس کے دماغ پہ اثر ڈالا ہے ۔ میں نے پریشان ہوکر اس کا بازو پکڑا اور پوچھا ”اب کیا ہوا“

آنکھوں سے بہتا پانی روک کر کہنے لگا ”پرسوں اس بندے کو مارکیٹ سے یو پی ایس خریدتے پکڑ لیا جس نے مجھے کہا تھا بے فکر ہوکر یوپی ایس بیچ دو، اب اسکی ضرورت نہیں پڑنے والی، میرے قائد نے کہہ دیا ہے اس دفعہ لوڈ شیڈنگ نہیں ہونے والی“ وہ رنگے ہاتھوں پکڑے جانے پر، پہلے تو تھوڑا گھبرایا پھر کہنے لگا” خالہ کو افغانستان بھجوانا ہے۔ تم تو جانتے ہو نا وہاں جنگ ہے اور لوگوں کو بےشمار مسائل ہیں۔“ اس نے ایک توقف کیا اورمجھ سے پوچھنے لگا ”پاکستان اور افغانستان میں کیا فرق ہے؟“
گرمیوں کی ابتدا سے ہی پاکستان میں بجلی کی لوڈ شیڈنگ بارہ گھنٹے تک پہنچ چکی ہے ۔اس وقت شہری علاقوں میں چار سے چھ اور دیہی علاقوں میں چھ سے بارہ گھنٹوں کی لوڈشیڈنگ ہورہی ہے اور گرمی میں اضافہ کے ساتھ لوڈشیڈنگ کے دورانیہ میں مزید اضافے کے قوی امکانات ہیں۔ نون لیگ کی حکومت کے پانچ سال مکمل ہونے کے بعد بھی لوڈشیڈنگ کا دورانیہ سولہ گھنٹے ہے، لوڈشیڈنگ ختم کرنے کے سابقہ وزیراعظم اور موجودہ وزیراعلٰی کے سارے دعوے جھوٹے نکلے،یہی حال دوسرے صوبوں کے وزرا ءکا بھی ہے۔ موسم گرما کے پہلے مہینے میں ہی طویل لوڈشیڈنگ نے دیہاتی زندگی کا پہیہ جام کر دیا۔ شہری علاقوں کا یہ حال ہے کہ پانچ سال میں پنجاب میں 50 ہزار میں سے 30 ہزار پاور لومز یونٹس بند اور32 ہزار خاندان بیروزگار ہوچکے، اسکی وجوہات؟…. مہنگی بجلی، چین کی سستی مارکیٹ، محکمانہ کرپشن، سمگلنگ اور مینوفیکچرنگ اخراجات بڑھ جانا ہے۔ لوڈ شیڈنگ اور دیگر مسائل نے لاکھوں افرادکو فاقہ کشی پر مجبور کردیا ہے لاکھوں افراد کا چولہا بجلی سے چلنے والی مشینوں سے منسلک ہے ۔اگر لوڈ شیڈنگ ختم نہ ہوئی تو پھر اپنے بچوں کو دو وقت کی روٹی کہاں سے دیں گے؟اندازہ کریں کہ یہ ابھی بجلی کی غیر اعلانیہ لوڈ شیڈنگ ہے جس نے پورے ملک کے عوام کی گھریلو زندگی کو اجیرن کر رکھا ہے ۔بجلی آئی۔ بجلی گئی کا ڈرامہ اب اس حد تک شدت اختیار کر چکا ہے کہ بےس کروڑ عوام کے پاس لوڈ شیڈنگ کے ساتھ سمجھوتہ کرنے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں بچا۔
موجودہ حکومت کے لوڈشیڈنگ کے خاتمے کی سچائی کا اس بات سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ 5سال بعد بھی پرسوں کابینہ کے اجلاس میں اس بات پر غور کیاگیا کہ وزارت پانی وبجلی کو اس رمضان میں سحری اور افطاری میں لوڈشیڈنگ نہ کرنے کےلیے کیا کیا بندوبست کرنے ہیں۔
یاد رہے کہ ن لیگ نے 2013 ءکا الیکشن ان چار وعدوں پہ جیتا تھا:
پہلا۔ لوڈ شیڈنگ کا خاتمہ
دوسرا۔ زرداری کا احتساب
تیسرا۔ مہنگائی کا خاتمہ
چوتھا۔ قرضوں سے نجات
لیکن ان میں سے ایک بھی عہد ایفا نہیں کیا۔ مہنگائی کا جنّ چراغ میں مقید رہنے کو تیار نہیں، تلوار لیے ہروقت غریب کی گردن ماپنے کو تیار پھرتا ہے، زرداری صاحب کا احتساب گویا، ایں خیال است و محال است و جنوں است ۔ قرضوں کی پوٹلی کھول کر دیکھ لیجئیے، کچھ نہیں نکلنے والا۔ اور لوڈ شیڈنگ کی بات کریں تو کہاں گئے سسٹم میں 10000 نئے میگاواٹ لانے کے جھوٹے دعوئے؟ عوام کو سخت گرمی اور بدحالی میں لوڈ شیڈنگ کا تحفہ دے کر ذہنی اذیت میں مبتلا رکھا جارہا ہے۔
حکومت نے کے ای ایس سی کیلئے سبسڈی 22 ارب سے کم کر کے 15 ارب کردی ہے۔ قائد اعظم سولر پارک کی شرمناک ناکامی اور عجلت میں فروخت طے کرنے کے بعد اب 1.6 ارب ڈالر کا ساہیوال کو ل پاور پلانٹ بھی افتتاح کے 9 ماہ بعد ہی بند ہونے کے قریب ہے۔ لو ڈ شیڈنگ کے خاتمے کے سارے دعوے بھی روشن پنجاب پروگرام کی طرح جھوٹ ثابت ہوچکے۔ سوال یہ ہے کہ کیا عوام اب بھی دھوکے برداشت کرنے کی متحمل ہوسکتی ہے؟ کیا لوگ، لوڈ شیڈنگ کے خاتمے پر جھوٹے امیدورں کو پھر ووٹ نہیں دیں گے۔ نواز شریف اداروں سے کہہ رہے ہیں ووٹ کوعزت دو لیکن عوام سوال کرتی ہے کیا ہمارے ووٹ کو عزت دی؟ عوامی مسائل حل کئے ہوتے تو آج یہ دن نا دیکھنے پڑتے۔
یہ بات کسی سے چھپی نہیں کہ حکمرانوں کے کاروبار ترقی کر رہے ہیں اور پاکستان خسارے میں جارہا ہے۔ موجودہ وزیر اعظم کی اپنی ائیر لائن منافع کما رہی ہے جبکہ پاکستان کے ادارے ناکام ہیں ۔اس سے بڑی شرم والی بات کیا ہو گی؟ لوگ بل بھی ادا کرتے ہیں اور ٹیکس بھی بھرتے ہیں ۔پھر بھی بنیادی ضرورت بجلی و پانی سے محرومی ہے؟ جن کے کتے ائیر کنڈیشن روم میں رہیں اور عوام گرمی سے مرےں،ایسے حکمرانوں کی اللہ کے ہاں سخت پکڑ ہوگی۔شمسی توانائی کے ذریعے بجلی پیدا کرنا وقت کی ضرورت ہے، مختلف سروے کے مطابق بجلی کا شارٹ فال پانچ سے سات ہزار میگا واٹ کے درمیان ہے ۔پاکستان میں شمسی توانائی سے 7 لاکھ میگاواٹ بجلی پیدا کی جاسکتی ہے، اندازہ کریں شمسی توانائی کی ایک ہی جست لوڈ شیڈنگ کے عشق کا قصہ تمام کرسکتی ہے۔ اگر ایسا نہیں کرتے توبجلی تو حکمران خاندان کی چور، کرپٹ اور فراڈ بادشاہت سے پوچھ رہی ہے کہ مجھے غریب عوام کے گھروں سے کیوں نکالا؟
گرمی آ ئے اور بجلی نہ جائے؟ کیا یہ ممکن ہے ؟….جی ہاں ہوسکتا ہے! کرپشن سے پاک قیادت کے ذریعے-


اپنی راہےکااظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.