کیویز سرزمین پر بیٹنگ کی نہیں دماغی پریکٹس کی ضرورت!

نیوزی لینڈ نے اپنی سرزمین پر پاکستان کو ایک روزہ سیریز کے پانچوں میچوں میں شکست دے کر گرین شرٹس کا زعم توڑ دیا، شاید کھلاڑیوں پر اب تک چیمپئنز ٹرافی میں روایتی حریف بھارت کو شکست دینے کا غرور غالب تھا جو تازہ ترین شکست کے بعد اپنی جگہ واپس آجائے گا۔

کیویز نے تمام میچز میں گرین شرٹس کو تختہ مشق بنائے رکھا اور یکطرفہ مقابلوں کے بعد کامیابی سمیٹی، پانچوں میچز میں سرفراز الیون کی بیٹنگ نے دھوکہ دیا لیکن حیران کن طور پر آخر میں بیٹنگ کے لیے آنے والے کھلاڑیوں نے بیٹسمینوں کی طرز کا کھیل پیش کرتے ہوئے سلیکٹرز کی توجہ اپنی جانب کھینچ لی۔

چوتھے ایک روزہ میچ میں اسی وجہ سے فہیم اشرف کو اوپننگ کے لیے بھیجا گیا، کہ شاید بیٹسمینوں کے بجائے بولرز یا آل راؤنڈر کام کر جائیں لیکن یہ تجربہ بھی ناکام رہا، تجربات کی مسلسل ناکامی کے بعد یہ جاننا ضروری ہوگیا ہے کہ آخر قومی ٹیم کا مسئلہ کیا ہے جو نیوزی لینڈ کی وکٹوں پر بیٹسمین اپنی بیٹنگ ہی بھول جاتے ہیں۔

اس بات کا جواب بلے بازوں کی تمام میچز میں شاٹ سلیکشن سے بخوبی کیا جاسکتا ہے، تمام بلے باز اپنے شاٹ کے انتخاب کی ناقص تکنیک کی وجہ سے یا تو دائرے کے اندر کیچ آؤٹ ہوئے یا ایل بی ڈبلیو ۔ پانچویں ایک روزہ میچ میں بھی ایسا ہی ہوا، جب 9 کھلاڑی کیچ آؤٹ ہوئے، جن میں سے صرف حارث سہیل وہ واحد بلے باز تھے جو دائرے کے باہر تک گیند کو پہنچا سکے اور کیچ آؤٹ ہوئے۔

سیریز کے آخری میچ میں ایک موقع پر ابتدائی 5 کھلاڑی صرف 57 کے مجموعی اسکور پر آؤٹ ہونے کے بعد جب حارث سہیل اور شاداب خان کے درمیان 105 رنز کی زبردست پارٹنرشپ لگی تو امید روشن ہوئی کہ شاید میچ یکطرفہ کے بجائے مقابلہ خیز ہوجائے لیکن وہی تکنیکی مسئلہ آڑے آیا اور کریز پر شاندار کھیل پیش کرنے والے یہ دونوں بلے باز بھی کیویز کھلاڑیوں کو کیچ دے بیٹھے۔

کپتان سرفراز احمد بھی پوری سیریز میں ذمہ دارانہ کھیل پیش نہ کرسکے اور جلد بازی میں غیرضروری طور پر کریز سے باہر نکلتے ہوئے دائرے میں ہی کیچ آؤٹ ہوئے۔

ون ڈے سیریز میں قومی ٹیم کی شکست کو اگر نیوزی لینڈ کی مشکل کنڈیشنز کے سائے تلے چھپانے کی کوشش کی جاتی رہی تو ٹی ٹوئنٹی سیریز میں بھی کھلاڑیوں سے کوئی امید نہیں لگائی جاسکتی، اس لیے ٹی ٹوئنٹی سیریز سے پہلے کھلاڑیوں کی بیٹنگ پریکٹس کے بجائے ان کی دماغی پریکٹس اشد ضروری ہے۔

کھلاڑی اس وقت پریکٹس کے فقدان کا نہیں بلکہ ذہنی دباؤ کا شکار لگتے ہیں جس کا اظہار تقریباً تمام ہی بلے بازوں نے اپنی بیٹنگ سے کیا، تین میچوں میں 100 رنز کے مجموعی اسکور پر 5 سے 6 کھلاڑیوں کا مسلسل آؤٹ ہوجانا اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ بلے باز خوف کا شکار ہیں اور کسی بھی میچ میں کھلاڑی مقابلہ کرتے نہیں دکھائی دیے۔

اگر کھلاڑیوں کو یہ سکھانا ہے کہ نیوزی لینڈ کی سرزمین پر کس طرح بیٹنگ کی جائے تو انہیں مارٹن گپٹل کی بیٹنگ دکھائی جائے جو آخری میچ اور سیریز کے بہترین کھلاڑی قرار پائے، جس انداز سے گپٹل اننگز کا آغاز کرتے ہیں وہ بولرز کو دباؤ میں لانے کے لیے بہترین ہے، دوسری جانب گرین شرٹس کا آغاز ہی دفاع سے ہوتا ہے اور کھلاڑی وکٹ بچاتے بچاتے پویلین کی راہ لیتے رہتے ہیں۔

سینئر ترین اوپنر اظہر علی کو سیریز کے ابتدائی تین میچز میں موقع دیا گیا لیکن انہوں نے نیوزی لینڈ کی وکٹوں پر بھی دفاعی کرکٹ کھیلنے کی کوشش کی، جس کی وجہ سے انہیں ڈراپ کرنا پڑا، جارح مزاج فخر زمان کی جارحیت بھی سیریز میں کسی کام نہ آئی اور وہ صرف ایک ہی میچ میں نصف سنچری اسکور کر سکے۔

بابراعظم پوری سیریز میں ناکام رہے اور ان کی تکنیک نہ چل سکی، شعیب ملک، محمد حفیظ اور کپتان سرفراز احمد کا حال بھی کچھ ایسا ہی رہا، وکٹ بچاتے بچاتے مڈل آرڈر کے یہ بلے باز بھی وکٹیں گنواتے رہے۔ حیران کن طور پر شاداب خان کی بیٹنگ نمایاں رہی اور انہوں نے مکمل بیٹسمین کی طرح شاندار اسٹروکس کھیل کر سلیکٹرز کو متاثر کیا۔

نیوزی لینڈ کو ٹی ٹوئنٹی سیریز میں اگر زیر کرنا ہے تو تمام کھلاڑیوں کو دفاعی حکمت عملی کے بجائے وار کرنے کی حکمت عملی اپنانا ہوگی، نیوزی لینڈ کی فاسٹ پچز پر کھلاڑیوں کا جارحانہ کھیل ہی کیویز کو دباؤ میں لاسکتا ہے اور یہ جارح مزاج بلے بازی، بولنگ اور فیلڈنگ میں نمایاں ہونا چاہیے نہ کہ زبانی!


اپنی راہےکااظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.