نماز کی برکت

’’سر! دومہینے بستر پر پڑا رہنے کے بعد جوپہلی نماز میں نے مسجد میں ادا کی، اس میں ایک زبردست تبدیلی آئی۔‘‘

یہ جملہ کہنے کے بعد وہ ایک لمحے کے لیے رکے اور پھر میری طرف جھکتے ہوئے بولے ۔ ’’مجھے نماز پڑھ کر گھر جانے کی کوئی جلدی نہیں تھی۔ میں نے پورے اطمینان اور توجہ کے ساتھ نوافل پڑھے اور جب میں گھر جانے کے لیے مسجد سے نکلا تو جانتے ہیں کیا ہوا؟‘‘، یہ ان کا مجھ سے سوال نہیں ، میرے تجسس کو مہمیز دینے کا ایک لاشعوری عمل تھا۔ میں خاموش رہا۔
یہ میرے ایک پرانے شناسا تھے جنھیں میں اکثر ان کی جلدباز طبیعت پر توجہ دلاتا رہتا تھا۔ پچھلے دنوں اسی جلدبازی کے ہاتھوں ان کا ایکسڈنٹ ہوا، پاؤں پر پلاسٹر چڑھا، دو مہینے عملاً معذور ہوگئے اور اب اس کے بعد آنے والی تبدیلی کی داستان میں ان کی زبانی سن رہا تھا۔

’’مسجد سے گھر تک تنگ سے روڈ پر لوگ اور گاڑیاں ساتھ ساتھ ہوتے تھے ۔ مجھے ہمیشہ گاڑی والوں پر غصہ آتا تھا جو ہارن دے کر پیدل چلنے والوں کو راستے سے ہٹاتے تھے ۔ مگر اس روز مجھے کوئی غصہ نہیں آیا۔ کیونکہ مجھے جلدی نہیں تھی۔ بلکہ ایسا ہوا کہ ایک گاڑی والا اپنی کار لوگوں اور سڑک پر کھڑی گاڑ یوں کے درمیان سے نکال کر بمشکل ریورس کر رہا تھا۔ آپ جانتے ہیں کہ ایک پرانے ڈرائیور کے لیے بھی یہ مشکل کام ہوتا ہے ۔ سو میں نے آگے پیچھے اس کی رہنمائی کرتے ہوئے اس کی گاڑی نکلوادی۔ مجھے گھر پہنچنے میں بس ایک منٹ ہی کی تاخیر ہوئی ہو گی، مگر اس نے جس لہجے میں میرا شکریہ ادا کیا، مجھے لگا کہ میری نماز اللہ کے ہاں قبول ہوگئی۔‘‘

’’آپ ٹھیک کہتے تھے ۔ جلدبازی میں دنیا و آخرت کا نقصان ہے اور صبر و تحمل میں دنیا و آخرت کی بھلائی ہے ۔‘‘، انھوں نے بات ختم کرتے ہوئے کہا اور میں سوچنے لگا کہ یہ خوش نصیب ہیں جنھیں دو مہینے بستر پر گزارنے کے بعد یہ بات سمجھ میں آ گئی۔ بعض نادانوں کو یہ حقیقت زندگی بھر سمجھ میں نہیں آتی.


اپنی راہےکااظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.