درندے کی گرفتاری اور ….!

ہم لوگ بہت زیادہ دھڑے بند ہوگئے ہیں، اس حوالے سے ہم سچ اور جھوٹ کے ’’چکر‘‘ میں پڑتے ہی نہیں، بس سچ وہ ہے جو ہمارا دھڑا سچ قرار دیتا ہے اور وہ جھوٹ ہے جسے ہمارا دھڑا جھوٹ قرار دیتا ہے۔ اس حوالے سے یہ بھی نہیں دیکھا جاتا کہ ہمارا یہ رویہ قومی، سیاسی اور معاشرتی حوالے سے کہیں تباہ کن تو نہیں؟ 

گزشتہ چند ہفتوں سے پاکستان کی ایک بیٹی زینب کے بہیمانہ قتل پر پاکستانی قوم سخت اضطراب کے عالم میں تھی اور درندہ صفت قاتل کی گرفتاری کے ضمن میں ہمارا میڈیا بھی بھرپور کردار ادا کررہا تھا۔

پاکستانی عوام کی خواہش اور پنجاب حکومت کی شبانہ روز کوششیں بالآخر رنگ لائیں اور وہ خبیث پکڑا گیا، جسے انسان کہنا بھی انسانیت کی توہین ہے۔ ہم لوگ اپنی پولیس کی کارروائیاں ڈالنے کی پرانی عادت سے پوری طرح آگاہ ہیں جو اپنی گردن بچانے کے لئے کسی بے گناہ شخص کو مجرم قرار دے کر اپنے طور پر بری الذمہ ہوجاتی ہے لیکن اس بار اس کی گنجائش نہیں تھی۔

پنجاب کے وزیراعلیٰ شہباز شریف نے جہاں عوامی بہبود کے حوالے سے شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے وہاں ایک بہت بڑا کام فرانزک لیبارٹری کے قیام کی صورت میں بھی سامنے آیا اور ابھی تک یہ کام صرف پنجاب میں ہوا ہے۔ اس کی جاری کردہ رپورٹس یقینی ہوتی ہیں اور انہی رپورٹس کی موجودگی میں درندہ صفت عمران علی کی گرفتاری ممکن ہوئی۔

اس کے لئے کتنی محنت کرنا پڑی، دھڑے بند سوچ کے حامل اس طبقے کو اس سے کوئی غرض نہیں، وہ بس خوف خدا سے بے نیاز ہو کر عمران کی گرفتاری کو’’پولیس کی کارروائی‘‘ قرار دے رہا ہے اور سوشل میڈیا پر اسے بےگناہ ثابت کرنے میں لگا ہوا ہے۔

کیا یہ لوگ اندھی مخالفت میں بہرے بھی ہوگئے ہیں کہ انہیں معصوم زینب کی چیخیں بھی سنائی نہیں دے رہیں اور اس کے اہلخانہ کے وہ آنسو بھی جو ان کی آنکھوں سے بہتے رہے۔ ان ظالموں کے پاس اپنی اس بات کا کوئی ثبوت بھی نہیں، صرف الزام ہی الزام ہے اور جھوٹ ہی جھوٹ ہے کہ کہیں مجرم کی گرفتاری کا کریڈٹ حکومت کو نہ مل جائے۔

عمران علی تک پہنچنے کے لئے جہاں تمام ایجنسیوں کی مدد لی گئی وہاں گیارہ سو کے قریب فرانزک سیمپلز بھی حاصل کئے گئے، نادرا کی مدد سے ہزاروں افراد کے بارے میں معلومات حاصل ہوئیں، تفتیش کرنے والا عملہ ہی نہیں خود وزیراعلیٰ بھی راتوں کو جاگ کر اس ساری کارروائی کی نگرانی کرتا رہا، جب اتنی تگ و دو کے بعد مجرم ہاتھ آیا تو اس کے اقبالی بیان کو جھوٹ سچ پکڑنے والی مشین پر بھی پرکھا گیا اور تب وزیراعلیٰ نے پریس کانفرنس میں اس تمام معاملے کی تفصیلات سے قوم کو آگاہ کیا۔

جو لوگ عمران علی کو بے گناہ قرار دینے کی کوشش کررہے ہیں، انہیں چاہئے کہ وہ فرانزک لیب سے حاصل کئے گئے نمونے کسی انٹرنیشنل ادارے سے بھی چیک کروائیں۔ اگر ان کا جھوٹ، سچ ثابت ہوا تو پھر کسی کو بھی ان کی بات پر نہ صرف اعتراض نہیں ہوگا بلکہ قوم ان کی ممنون بھی ہوگی اور جہاں تک شہباز شریف صاحب کی پریس کانفرنس کے حوالے سے اپوزیشن لیڈر خورشید شاہ اور میڈیا کی طرف سے اعتراضات اٹھائے گئے ہیں ہمیں مان لینا چاہئے کہ یہ پریس کانفرنس بدانتظامی کا شکار ہوئی۔

شہباز شریف کے سیمابی مزاج میں جوش و خروش کا عنصر غالب رہتا ہے، جو یہاں بھی نظر آیا۔ انہوں نے فرانزک لیب سے حاصل کئے گئے نمونوں کے حوالے سے بجا طور پر ڈاکٹر اشرف طاہر اور الیکٹرانک ڈیٹا اینالسز کے حوالے سے ڈاکٹر عمر سیف کی کوششوں کو سراہا، پولیس اور ایجنسیوں کی کارکردگی کی بھی بہت تعریف کی مگر کسی کو بھی کھڑا ہونے کی ہدایت دینے کی چنداں ضرورت نہیں تھی۔

اسی طرح اگر زینب کے والد کے سامنے سے اسپیکر اٹھانے کا شاید کوئی جواز ہو، مگر اس حوالے سے پہلے سوچ لینا چاہئے تھا۔ سب سے زیادہ اعتراض اس محفل میں تالیاں بجائے جانے پر ہوا، آج حامد میر نے اپنے کالم میں انکشاف کیا ہے کہ اس کی ابتداء تین صحافیوں نے کی، اس کے بعد باقیوں نے ان کی پیروی کی۔ مجھے یہ بات اچھی نہیں لگی بالکل اسی طرح جب شہداء کی یاد میں منعقد کسی تقریب میں شہداء کے عزیز و اقارب کی موجودگی میں محفل موسیقی کے درمیان تالیاں بجائے جانے کے فعل سے ہماری کبھی ذہنی ہم آہنگی نہیں ہوسکی۔

سوالات اور بھی بہت سے اٹھائے گئے کہ اس سے پہلے اس شہر میں سات اور بچیوں کے ساتھ بھی یہی سلوک ہوا تھا، جو معصوم زینب کے ساتھ ہوا، اُس وقت پولیس کہاں سوئی ہوئی تھی، حالانکہ انہی وارداتوں کے بعد شہر میں کیمرے لگائے گئے تھے اور یہی کیمرے ان سب معصوم بچیوں کے قاتل تک رسائی کا باعث بنے۔

سو اگر کوئی کسی بھی حوالے سے کوئی اعتراض کرتا ہے اور اس میں بدنیتی نہیں بلکہ مقصد اصلاحِ احوال ہے تو اس کا شکریہ ادا کرنا چاہئے، لیکن اگر بدنیتی سے سفید کو کالا اور کالے کو سفید قرار دیا جائے تو یہ اپنے طور پر ایک جرم ہے۔

شہباز شریف نے پنجاب کے عوام کی بے پناہ خدمت کی ہے اور بہت دور رس منصوبے بھی شروع کئے ہیں، معصوم زینب کے قاتل کو دن رات کی کوششوں سے گرفتار کرلیا گیا ہے تو شہباز کو اس پر داد دیں اور دل کھول کر دیں۔

جو لوگ عمران علی جیسے درندے کو بے گناہ قرار دے رہے ہیں انہیں شرم آنی چاہئے۔ آپ کی مخالفت حکومت سے ہے، ٹھیک ہے آپ کا حق ہے، مگر اُن سات بچیوں نے آپ کا کیا بگاڑا ہے جو اس درندے کی درندگی کا نشانہ بنیں۔ اللہ سے ڈریں اور دعا کرتے رہیں کہ آئندہ پاکستان کی کوئی بیٹی کسی عمران علی کی ہوس کا نشانہ نہ بنے۔


اپنی راہےکااظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.