Latest news

صبر کریں! امن آرہا ہے۔۔۔

پاکستان میں کرکٹ کی بحالی کے لیے پاکستان سپر لیگ سے شروع کی جانے والی کاوش بلآخر ویسٹ انڈیز کے دورۂ کراچی سے انٹرنیشل کرکٹ کو ملک میں کھینچ لائی ہے۔

کراچی میں ویسٹ انڈیز (وِن ڈیز) کے کامیاب دورے نے جہاں عالمی سطح پر پاکستان کے پُرامن تشخص کو اجاگر کیا ہے وہیں پی سی بی، صوبائی حکومت کے بہترین انتظامات اور عوامی تعاون نے بھی اس بات کو ثابت کیا ہےکہ کراچی میچ کے انعقاد کے لیے لاہور سے کسی طور کم نہیں ہے۔

ہزاروں افراد کو پارکنگ ایریاز سے اسٹیڈیم تک لے جانے کے انتظامات انتہائی نظم و ضبط کے ساتھ انجام دیئے گئے اور شہریوں کو باعزت طریقے سے اسٹیڈیم لے جایا اور واپس لایا گیا، اسٹیڈیم میں متعلقہ انکلوژر میں داخل ہونے کے لیے انتظامیہ کا عملہ شائقین کی رہنمائی کے لیے موجود تھا، اس طرح کے انتظامات پر پی سی بی اور صوبائی حکومت تعارف کی محتاج ہیں۔

ویسٹ انڈیز کے دورۂ کراچی میں سیکیورٹی پلان اور ٹریفک پلان ایک بنیادی چیز تھی جس کا مقصد مہمان ٹیم کو تحفظ دینا اور میچ دیکھنے کے لیے آنے والے شہریوں کو بہتر انتظامات فراہم کرنا تھا لیکن ایسے میں بعض شہریوں نے ان انتظامات پر کڑی تنقید بھی کی۔

لاہور میں پی ایس ایل کے میچز کے دوران بھی یقیناً ٹریفک جام کی صورتحال پیدا ہوئی ہے اور ایسا ہی کچھ کراچی میں بھی دیکھنے کو ملا جس پر شہریوں نے غصے کا اظہار کیا اور صرف تین دن کے انتظامات پر کرکٹ اور مہمان ٹیم کو ہی لتاڑنا شروع کردیا۔

شہریوں نے صبر اختیار کرنے کی بجائے روایتی غصے کا اظہار کیا اور شہر میں اس طرح کی سرگرمیوں سے اجتناب برتنے کا مشورہ دے ڈالا۔

اس طرح کا رویہ رکھنے والے شہریوں کو شاید اس بات کا علم نہیں کہ کراچی میں امن کی بحالی اور 9 سال بعد انٹرنیشنل کرکٹ ہونا ملک کے تشخص کو اجاگر کرنے کے لیے کتنا اہم ہے۔

لاہور میں میچ پر تنقید کرنے والے اور روزانہ ٹریفک جام کی اذیت برداشت کرنے والے ہمارے کراچی والوں نے اپنی بھڑاس کرکٹ اور مہمان ٹیم پر نکال دی۔

حالانکہ کھیر میں نمک تلاش کرنے والے ان شہریوں کو خود کھیلوں کی سرگرمیوں سے کوئی دلچسپی نہیں ہوگی کیونکہ نیشنل اسٹیڈیم میں ہزاروں افراد کی موجودگی اس بات کی گواہی دے رہی تھی کہ کراچی کے شہری اپنے شہر میں کرکٹ کی بحالی پر بے انتہا خوش ہیں۔

اسٹیڈیم میں پاکستان زندہ باد اور جیوے جیوے پاکستان کے فلک شگاف نعرے گونج رہے تھے، شہریوں کی خوشی اور جوش و جذبہ قابل دید تھا۔

کراچی کے شہریوں کو اس موقع پر صبر اختیار کرنا چاہیے تھا کیونکہ پاکستان جیسے دہشت گردی سے متاثرہ ملک میں جہاں مہمان ٹیم پر دہشت گردوں نے حملہ کیا ہو، وہاں انٹرنیشنل کرکٹ کی بحالی ملک کے دشمنوں کو دندان شکن جواب ہے۔

کراچی کے جن شہریوں نے ان انتظامات پر تنقید کی یا انہیں ٹریفک جام کی اذیت سے دوچار ہونا پڑا وہ اس وقت تنقید کیوں نہیں کرتے جب وی وی آئی پی موومنٹ میں ایک سیکیورٹی اہلکار کے سامنے بے بس کھڑے ہوتے ہیں، یہ شہری پروٹوکول کے خلاف آواز کیوں نہیں اٹھاتے؟ مہمان ٹیم اور شہر میں مثبت سرگرمی پر انگلی اٹھانے والے اس وقت کیوں خاموش ہوتے ہیں جب انہیں آدھے آدھے گھنٹے سڑک پر منسٹر صاحب کی آمد کے موقع پر کھڑا کردیا جاتا ہے؟

کراچی میں اس طرح کی مثبت سرگرمیوں پر انگلی اٹھانے والے شہری ایک بار یہ ضرور سوچیں کہ یہ سب ان کے شہر اور مستقبل کے لیے کتنا اہم ہے، بم دھماکوں کی بو اور گولیوں کی تڑتڑاہٹ سے آزاد ہونے والے اس شہر میں اب امن اور خوشیوں کا دور واپس آرہا ہے اور ایسے میں شہریوں کی تنقید اداروں کے حوصلے پست کرنے کے مترادف ہوگی۔

لہٰذا روزانہ بے جا ٹریفک میں پھنسے رہنے والے کراچی کے شہری ایسے مواقع پر مثبت سوچ سے کام لیں اور صبریں کریں کیونکہ امن آرہا ہے۔


اپنی راہےکااظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.