پاکستان کی پالیسی کے سامنے مودی کا بھارت ناکام؟

لاہور(طاہر محبوب سے) پاکستان کو تتہا کرنا والا بھارت خطے میں تنہا ہوگیا. سری لنکا، بنگلہ دیس، نیپال، افغانستان کے بعد اب ایران نے بھی بھارت کے ساتھ تمام کاروباری معاہدے توڑ دئیے. چین اور پاکستان ایک ساتھ بھارت کو تنہا کرنے کی پالیسی پر بڑی تیزی سے کامیبایاں سمیٹ رہیں ہیں.

سنہ 2014 کے ستمبر میں بھارتی وزیراعظم نریندر مودی اپنی آبائی ریاست گجرات کی راجدھانی احمد آباد میں چینی صدر کے ساتھ جھولے میں جھولتے ہوئے نہایت بے تکلفی سے بات چیت کرتے نظر آئے۔ باہمی معاہدوں کا ایک سلسلہ چل پڑا تھا اور بھارتی چینلوں پر مودی کی ’کامیاب ڈپلومیسی‘ کا ڈھول دھڑادھڑ بجنے لگا۔ چین جیسی پراسرار اور کم گو طاقت کو شیشے میں اتارنے کے لیے بی جے پی نے مودی کو مہادیو کا درجہ دیا۔ ملاقات کے کئی روز بعد یہ انکشاف ہوا کہ جب مودی شی جن پنگ کے ساتھ پینگیں بڑھا رہے تھے، چینی فوج دراندازی کر کے بھارت کے زیر انتظام لداخ کے چُومار اور دمچوک خطوں میں خیمہ زن ہو گئی تھی۔

چین، ایران میں مواصلات، بینکنگ، صنعت، ریلوے لائنز اور بندرگاہوں کی تعمیر کے سلسلے میں ایرانی حکومت کی معاونت کرے گا۔ اس کے بدلے ایران چین کو 25 سال تک سستا تیل فراہم کرے گا

آج چین مشرقی لداخ کے سرحدی علاقوں میں کئی کلومیٹر اندر گھس آیا ہے اور واپسی کا نام نہیں لے رہا ہے بلکہ اب تو بیجنگ پوری وادی گلوان پر دعویٰ جتلا رہا ہے۔ گو کہ تازہ مرحلہ سمیت اب تک مقامی کمانڈروں کی سطح پر مذاکرات کے تین ادوار ہوئے اور چھ جون کومتعدد مقامات پر پیچھے ہٹنے پر اتفاق بھی ہوا تھا تاہم بات آگے نہ بڑھ سکی بلکہ الٹا کشیدگی بڑھتی ہی چلی جارہی ہے۔

نیپال، بھوٹان، مالدیپ، سری لنکا اور بنگلہ دیش وہ ممالک ہیں جو کل تک دہلی کی بولی بولتے تھے لیکن چین اور پاکستان نے ان چاروں ممالک کو سی پیک میں شامل کر کے ان کو خودمختار ریاست بنا دیا جس سے بھارت کا کنٹرول ان پر ختم ہو گیا اب یہ ممالک چینی احسانات تلے دب چکے ہیں اور اب بھارت کے لیے مسلسل پریشانی کا باعث بنتے چلے جا رہے ہیں۔

چین اور پاکستان اپنے اہداف کے حصول کی جانب صحیح سمت میں گامزن ہے۔ آگے چل کر کیا واقعی چین لداخ پر چڑھائی کے مطلوبہ مقاصد حاصل کر پائے گا، یہ تو آنے والا وقت ہی بتائے گا تاہم موجودہ حالات میں اب بھارت کی سبھی سرحدیں غیر محفوظ بن چکی ہیں۔ تاہم قوم پرستی کا جو ہائی وولٹیج ڈراما گذشتہ چند برسوں میں بھارت میں کھیلا گیا، وہ شاید ہی نریندر مودی کو اس کی اجازت دے۔

اس صورت حال میں مبصرین کے نزدیک مودی کے ہاتھ بندھے ہوئے نظر آ رہے ہیں اور اُنہیں کسی طرح سے اس کشیدگی کوکنٹرول کرنا ہو گا تاکہ برفانی ہوائیں دونوں جانب سے افواج کو بیس کیمپوں میں واپس بھاگنے پر مجبور کر دیں اور پھر اگلے سال موسم بہار کی آمد تک دیکھا جائے گا کہ چینی اژدہا کس کروٹ بیٹھتا ہے۔

اس خطے کی صورتحال کے پیش نظر پاکستان نے ایرانی حکومت کے ساتھ کچھ معائدے کیے اور چین اور ایران کے درمیان کچھ ایسے معائدے کروائیں جس سے بھارت کے مودی کو بہت بڑا جھٹکا لگا اور ابھی تک کوئی بھارتی سرکاری بیان سامنے نہیں آیا. ایرانی حکومت نے چابہار ریل منصوبے سے بھارت کو نکال باہر کردیا۔ بھارت اور ایران نے 2016 میں افغانستان کی سرحد کے ساتھ چابہار بندرگاہ سے زاہدان تک ریل لائن تعمیر کرنے کے معاہدے پر دستخط کیے تھے۔

ایران کی بندرگاہ چاہ بہار سے زاہدان اور افغانستان کی سرحد تک اس ریلوے منصوبے پر 2016 میں بھارتی وزیرِ اعظم نریندر مودی، ایران کے صدر حسن روحانی اور افغانستان کے صدر اشرف غنی نے دستخط کیے تھے۔

چار سال بعد ایرانی حکومت نے فنڈز اور منصوبہ شروع کرنے میں مسلسل تاخیر کا نوٹس لیتے ہوئے ہندوستان کو منصوبے سے خارج کردیا اور اب یہ منصوبہ خود تعمیر کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ پیش رفت ایسے وقت سامنے آئی جب چین نے ایران کے ساتھ 25 سالہ 400 بلین ڈالرز مالیت کے اسٹریٹجک شراکت داری کے معاہدے کو حتمی شکل دے دی ہے۔

بھارت کو امریکی پابندیوں سے خوف تھا جس کے باعث اس نے چابہار میں معاہدے کے باوجود کام شروع نہیں کیا۔ ایران اب بھارت کی مالی مدد کے بغیر خود ہی اس پروجیکٹ پر کام شروع کرے گا اور چابہار کو ہلکی رفتار سے ترقی دی جائے گی۔ بھارت میں اپوزیشن جماعت کانگریس نے اسے اخراج کو بھارت کی بڑی ناکامی قرار دیتے ہوئے وزیراعظم نریندر مودی کی سفارتی شکست قرار دیا ہے۔

ایران کے وزیر ٹرانسپورٹ محمد اسلامی نے ریلوے ٹریک بچھانے کے منصوبے کا افتتاح کردیا ہے جو مارچ 2022 میں مکمل کر لیا جائے گا۔ چین کے پاس ایران تک ریل روڈ پہلے ہی موجود ہے جس کے ساتھ ساتھ مشہد کو بھی چابہار سے ریل روڈ سے جوڑا جائے گا۔ اس کا مطلب ہے کہ چین اب کاشغر سے چابہار تک ریل روڈ اور پھر آگے سمندر کے راستے استعمال کرسکتا ہے.

امریکا نے چابہار سے زاہدان تک ریلوے لائن پروجیکٹ کو پابندیوں سے چھوٹ دی تھی، اس کے باوجود ہندوستان اس منصوبے میں وقت ضائع کرنے اور تاخیری حربے کرتا رہا تاہم حیرت ایران پر ہے جسے بھارت سے چھٹکارا پانے میں زیادہ دیر لگ گئی۔ ایران میں یہ واحد بڑا اہم منصوبہ تھا جو بھارت کی شراکت سے بن رہا تھا. بھارت اس منصوبے سے پاکستان کی معیشت پر اثرانداز ہونا چاہتا تھا مگر امریکی پابندیوں کے خوف سے گھٹنے ٹیک دیے۔

حال ہی میں چین نے ایران کے ساتھ 25 سالہ 400 بلین ڈالرز مالیت کے اسٹریٹجک شراکت داری کے معاہدے کو حتمی شکل دی ہے جس کے تحت بیجنگ ایران میں مواصلات، بینکنگ، صنعت، ریلوے لائنز اور بندرگاہوں کی تعمیر کے لیے مدد کرے گا جس کے عوض ایران چین کو 25 سال تک سستا تیل فراہم کرے گا۔

نیپالی وزیر اعظم پی شرما کا کہنا ہے شری رام کی اصل جائے پیدائش ’’اصل ایودھیا‘‘ نیپال میں تھی لیکن بھارتی ہندوؤں نے ’’جعلی‘‘ ایودھیا بنا کر اسے دنیا بھر میں مشہور کردیا

بھارت کے نیپال کے ساتھ ابھی تعلقات کافی خراب دور سے گزر رہے تھے کہ نیپال نے ایک اور معاذ پر بھارت کو ہلا کر رکھ دیا. پی شرما نیپالی وزیر اعظم نے بھارتی ہندوؤں پر الزام لگایا کہ شری رام کی اصل جائے پیدائش، یعنی ’’اصل ایودھیا‘‘ نیپال میں تھی لیکن بھارتی ہندوؤں نے ’’ثقافتی توسیع پسندی‘‘ کا مظاہرہ کرتے ہوئے اترپردیش میں ’’جعلی‘‘ ایودھیا بنا کر اسے دنیا بھر میں مشہور کردیا۔ ’’شری رام کا اُتر پردیش سے کوئی تعلق نہیں تھا بلکہ ان کی حکومت نیپال میں موجودہ بالمیکی آشرم کے قریب تھی۔‘‘

بھارت کے اس وقت بھوٹان کے علاوہ تمام ممالک سے تعلقات بہت خراب دور سے گزر رہے ہیں اور اب ایران نے بھی بھارت کو آنکھیں دیکھانا شروع کردی ہیں. اگر یہ سب کچھ ایسا ہی چلتا رہا تو 1 یا 2 سال میں بھارت بہت کمزور ریاست بن جائے گی. پاکستان نے بھارت کو ایسا گھیراہے کہ اب بھارت سرکار اپنا سارا پیسہ دفاع پر لگانے پر تلی ہوئی ہے. بھارت دنیا کا سب سے بڑا ملک ہےجو سب سے زیادہ اسلحہ خریدہ ہے. بھارت دو محاز پر جنگ کرنے کے بھی قابل نہیں پاکستان اور چین کی اسڑیچک پالیسی نے بھارت سرکار کی نیند کواُڑ کر رکھا دیا ہے.

اس وقت جو کچھ بھارت کےخلاف ہو رہا ہے یہ سب مودی کی پالیسیوں کا نتیجہ ہے. مودی نے پاکستان کو تنہا کرنے کی پالیسی پر الیکشن لڑا اور الیکشن میں چین کے خلاف بھی کافی باتیں کی. جس سے بھارتی عوام سمجھ بیٹھی مودی کوئی بھگوان ہے جو اکھنڈ ہندوستان کا سپنا پورا کریں گے۔ لیکن صورتحال کچھ اکھنڈ بھارت کے خلاف ہی ہوگئی.

سکم سے لے کر ہماچل پردیش، اتر کھنڈ، اروناچل پردیش اور لداخ تک چین کے ساتھ ملنے والی سرحد کے علاوہ لداخ کے ایک ہی دوسرے حصہ اور جموں وکشمیر میں پاکستان کے ساتھ لگنے والی سرحد کشیدہ بن چکی ہیں جو کوئی اچھی یا اطمینان بخش صورت حال قرار نہیں دی جا سکتی کیونکہ دفاعی اعتبار سے بیجنگ اور نئی دہلی کا کوئی موازنہ نہیں ہے اور ذرا سی بھی غلطی ڈریگن کو برہم کر سکتی ہے۔ پاکستان تو پہلے ہی موقع کی تلاش میں ہے.

تاہم مبصرین سمجھتے ہیں کہ موجودہ حالات میں بھارت کے لیے واحد اطمینان بخش چیز یہ ہے کہ چین جنگ نہیں چاہے گا اور اگر بھارت سرکار خاموشی سے بیجنگ کو بڑا بھائی تسلیم کرتے ہوئے عالمی سیاست، تجارت، معیشت میں کچھ رعایات اور کچھ ٹھوس یقین دہانیاں فراہم کرتی ہے تو شاید چین اپنی پیش قدمی روک دے گا۔ تاہم قوم پرستی کا جو ہائی وولٹیج ڈراما گذشتہ چند برسوں میں بھارت میں کھیلا گیا، وہ شاید ہی نریندر مودی کو اس کی اجازت دے۔

اس صورت حال میں مبصرین کے نزدیک مودی کے ہاتھ بندھے ہوئے نظر آ رہے ہیں اور اُنہیں کسی طرح سے اس کشیدگی کو موسم سرما کی آمد تک روکنا ہو گا تاکہ برفانی ہوائیں دونوں جانب سے افواج کو بیس کیمپوں میں واپس بھاگنے پر مجبور کر دیں اور پھر اگلے سال موسم بہار کی آمد تک دیکھا جائے گا کہ چینی اژدہا کس کروٹ بیٹھتا ہے۔

مودی نے جو کچھ بھارت کے ساتھ کیا اس کو اس کی قوم کبھی معاف نہیں کرے گی چین اور پاکستان نے جس طرح انتہائی خاموشی کے ساتھ بھارت کے پڑوس میں ان ممالک کو اپنی طرف کر دیا جو کل تک نئی دہلی کی کالونیاں تصور کی جاتی تھیں. مودی نے اپنی پالیسیاں نہ بدلی تو بہت جلد بھارت کو ٹوٹنے سے کوئی نہیں روک سکے گا.




اپنی راہےکااظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.