Latest news

پاکستان کے خلاف بھارت، اسرائیل سازش

حالیہ دنوں نے بھارت نے پاکستان کے خلاف بقول اس کے سرجیکل سٹرائیک سمیت بہت کچھ کر کے دیکھ لیا مگر وہ پاکستان کا بال بیکا نہ کر سکا بلکہ الٹا اس کا امیج دنیا بھر میں خراب ہوگیا۔ پاکستان پر حملہ کرنے کی ضد نے بھارت کی ساکھ نہ صرف دنیا میں بلکہ جنوبی ایشیائی خطے اور خود بھارت کے اندر بھی ختم کر دی۔

اس کا وقار ختم ہوگیا۔ بھارتی عوام اپنی حکومت اور فورسز پر باتیں کرنے لگے۔ مودی سرکار پر تھو تھو ہو رہی ہے۔ رہی سہی کسر او آئی سی کے اعلامیہ نے پوری کر دی جس میں مدعو ہونے پر بھارت پھولے نہیں سما رہا تھا کہ پاکستان کو اسلامی ممالک میں بدنام کرنے کا موقع ہاتھ آگیا ہے ۔

اسلامی ممالک نے کشمیر کے حوالے سے اس کے منہ پر وہ کالک ملی کہ اب جتنا بھی چیخ لے، پروپیگنڈہ کر لے یہ کالک نہیں دھلنے والی۔
اتنا سب کچھ کرنے کے بعد اور اتنی رسوائی پانے کے بعد بھی بھارت کو چین نہیںآیا ۔ وہ کسی نہ کسی طرح پاکستان کو زیر کرنا چاہتا ہے ۔ یہ اس کی ضد بن چکی ہے۔ اس کےلئے وہ ہر حد عبور کرنے کو تیار ہے۔ ایف سولہ والا ڈرامہ بھی نہ چل سکا۔

دنیا نے دیکھا کہ بھارت میں گرنے والے جہاز کا ملبہ ایف سولہ کا نہیں بلکہ بھارتی مگ 21 کا ہے۔ اب آخر تھک ہار کر بھارت نے افغانستان سے مدد کی درخواست کی ہے۔

اپنی عوام کو مطمئن کرنے کےلئے افغانستان سے ایف سولہ جنگی طیارے کا سکریپ بھارت لا کر اسے پاکستانی ایف سولہ بنا کر پیش کرنے کی منصوبہ بندی کر رہا ہے۔تاکہ وہ دکھا سکے کہ ہم نے پاکستانی ایف 16 ہی گرایا تھا۔
اس سلسلے میں بھارتی خفیہ ایجنسی” را“ کے چار اہم ذمہ دار اور افغان خفیہ ایجنسی این ڈی ایس کے اہم ذمہ دار بھی اس سازش میں بھارتی مددگار ہیں۔

سازش کے تحت افغانستان سے تباہ شدہ ایف سولہ کا ملبہ لا کر اس پر پاکستانی پرچم بنا کر چند روز بعد بھارتی حکام ایک پریس کانفرنس کے ذریعے یہ اعلان کریں گے کہ یہ اس جہاز کا ملبہ ہے جو پاکستان کا ہم نے گرایا۔
نریندر مودی الیکشن جیتنے اور پاکستان کی طرف سے دو بھارتی طیارے تباہ کرنے پر بھارت کی ہونے والی بدنامی کو مٹانے کیلئے یہ سب کچھ کر رہے ہیں۔

اس ضمن میں باقاعدہ بھارت کے بڑے میڈیا ہاوسز کو بھی بھارتی حکومت نے پے رول پر لے رکھا ہے اور کوشش کی جا رہی ہے کہ آ ئندہ چند روز میں ایک بڑی پریس کانفرنس کے ذریعے پہلے اس جعلسازی سے ایف سولہ طیارے کے ملبہ کو دکھایا جائے گا۔

اس کے بعد یہ بھی کوشش کی جائے گی کہ ابھی نندن سے یہ پریس کانفرنس کرائی جائے جس میں اسے یہ کہلوانے کی کوشش کی جائے گی کہ اس نے جو پاکستان نے بیان دیا وہ زبر دستی لیا گیا اور میں نے ایک ایف سولہ طیارہ گرایا اور اس کے بعد میں دوسرے طیارے کے پیچھے تھا کہ قابومیں آ گیا۔

اگربھارتی خفیہ اداروں اور این ڈی ایس کی ٹیم اس جعلسازی میں کامیاب ہو جاتی ہے تو پھر اس کو بین الاقوامی سطح پر بھی پاکستان کو بدنام کرنے کی کوشش کی جائے گی۔
اسی طرح پاکستان کو بدنام کرنے کی ایک اور بھارتی سازش بھی منظر عام پر آئی جو بھارت ، افغانستان اور اسرائیل کی ملی بھگت سے تیار کی جا رہی ہے۔

اس سازش کو کامیاب کرنے کے لیے اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کی مشاورت بھی شامل ہے ۔ سازش کی منصوبہ بندی اور عمل درآمد کےلئے موساد اور را کے چھ اعلیٰ افسران ذمہ دار ٹھہرائے گئے ہیں۔

اس سازش کے تحت را، موساد، این ڈی ایس، جنونی ہندووں اور مقبوضہ کشمیر میں موجود بھارت نواز کشمیریوں کی بڑی تعداد کومہاجرین کے طور پر سامنے لاکر غزہ کی طرح پاکستانی سرحد کے ساتھ آباد کیا جائے گا۔

منصوبہ یہ ہے کہ ان وادیوں میں پاکستان سے واقعی محبت کرنے والے کشمیریوں کوبھی رکھا جائے گا لیکن وہ اس سازش سے لا علم ہوں گے ۔ پھر ان کشمیریوں پر بدترین مظالم کرکے بڑی تعداد کو یا تو ماردیا جائے گا یا ان کو تشد د کر کے معذور کر دیا جائے گا۔
اس تشدد اور ظلم کو خود دشمن کا میڈیا بڑھا چڑھا کر پیش کرے گا اور ایک تحریک چلائی جائے گی کہ یہ لوگ بطور پناہ گزین پاکستان جانا چاہتے ہیں۔ اسرائیل اور بھارت بین الاقوامی قوتوں کی ملی بھگت سے پاکستان پر یہ دباو¿ ڈالیں گے ان پناہ گزینوں کو پاکستان میں پنجاب اور سندھ کے کیمپوں میں رکھا جائے ۔

پھر ان پنا ہ گزینوں میں موجود دشمن ایجنسیوں کے افراد دونوں بڑے صوبوں میں فسادات برپا کروا کے خانہ جنگی جیسی صورتحال پیدا کر یں گے ۔ اگر منصوبے کے تحت پاکستان کے اندر مہاجرین آتے ہیں تو پھر یہاں ان کو اسلحہ دینا بھی را، موساد اور این ڈی ایس کی ذمہ داری ہوگی۔

کیمپوں کے ساتھ بھارت کی جانب سے سکیورٹی وال تعمیر کی جائے گی اور بعد ازاں دباو¿ کے تحت 30 سے 40 لاکھ کشمیریوں کی پاکستان ہجرت کروائی جائے گی۔

کئی عالمی ممالک ان پناہ گزینوں کے لئے امداد اور دیگر سہولیات کا اعلان کریں گے تاہم افغان مہاجرین کی طرح ان کو بھی ان کے حال پر چھوڑدیا جائے گا۔

مقبوضہ کشمیر میں ایسے حالات پیدا کیے جائیں گے کہ کشمیر اپنے گھروں کو واپس نہیں جاسکیں گے ۔
اس نئی گھناونی سازش کا آغاز مودی سرکار نے کیا جبکہ کوئی بھی نئی بھارتی حکومت سازش کو جاری رکھنے کے لیے را اور بھارتی اسٹیبلشمنٹ پر دباو¿ ڈالے گی ۔ مقبوضہ کشمیر میں سیکشن 35A کے خاتمہ کے لیے کام کرنا بھی اسی سازش کی ایک کڑی ہے ۔

اس خوفناک منصوبہ پر پچھلے چار سال سے کام جاری ہے اور کشمیر کے اندر بھارتی مظالم بھی اسی سازش کا حصہ ہیں۔

پلوامہ واقعہ بھی اس منصوبے کے تحت کیا گیا۔ سازش کے تحت پاکستان کو معاشی طور پر بھی انتہائی کمزور کیا جائے گا۔
یہ بھی حقیقت ہے کہ پا ک بھا رت کشیدگی میں کمی ہو ئی ہے مگرابھی بھی جنگ کا خطرہ موجود ہے۔ پاکستان نے بھارت کی جارحیت کا جواب دیا اور بھارت کی جارحیت کی وجہ سے دونوں ملک جنگ کے قریب تھے۔

لیکن ہمیں اب بھی خاموش ہو کر نہیں بیٹھ جانا چاہیے۔ ہماری فورسز ہر وقت چوکنی ہیں۔

ہماری دشمن قوتیں جو ہمارے خلاف سازشیں کر رہی ہیں ان کا فوری طورپر توڑ ضروری ہے۔ بھارت اتنی شکست کے بعد کبھی خاموش نہیں بیٹھے گا۔

ہندووں نے ہمیشہ سازش کے ذریعے مسلمانوں کو مارا ہے۔

اب بھی وہ سازشیں ہی کر رہاہے۔ لہذا جہاں ہمیں اپنی فورسز کو چوکنا رکھنا ہے وہیں خود عوامی سطح اور عالمی سطح پر ان سازشوں کے توڑ کےلئے اقدامات کرنے ہیں۔ اقوام عالم کو بتانا ہے کہ بھارت اور اس کے گماشتے کیا کیاگل کھلانا چاہتے ہیں۔

ہمیں ہر پل ہوشیار رہنا ہے کہیں ہم اس بار بے خبری میں ہی نہ مارے جائیں۔


اپنی راہےکااظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.